میں نے جس شخص پر اسلام پیش کیا اس نے پس وپیش سے کام لیا مگر ایک واحد ابوبکر تھے جنہوں نے میری ایک آواز پر لبیک کہا اور اسلام قبول کیا.
ابو بکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا اتنا نفع مجھے کسی کے مال سے نہیں پہنچا . اس پر حضرت ابوبکر صدیق نے روتے ہوئے عرض کیا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! میں اور میرا مال سب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کا ہے.
میں اگر اللہ کے سوا کسی کو اپنا دوست و خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا.
ایک موقعہ پر سرکار صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج سے مسجد نبوی میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں اور دروازے بند کردیئے جائیں آئندہ صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رکھا جائے گا.
آپ امت پر اتنے شفیق تھے کہ ایک روز سرکار دوعالمصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا "میری امت پر ان میں سب سے مہربان ابوبکر ہیں."(ترمذی)
تم (ابوبکرصدیق) غار میں بھی میرے ساتھ رہے اور بروز قیامت حوض کوثر پر بھی میرے ہمراہ ہوگے. (ترمذی)
انبیا کرام کے سوائے سورج کبھی ابوبکر سے بہتر آدمی پر طلوع نہیں ہوا.
کسی قوم کے لئے بہتر نہیں کہ ان میں ابوبکر ہوں اور ان کی امامت کوئی دوسرا کرے.
اے ابوبکر ! تم کو اللہ جل شانہ نے آتش جہنم سے آزاد کردیا ہے۔ اسی روز سے آپ کا لقب عتیق مشہور ہوگیا.
ایک روز آپصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کو بروز قیامت جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ " ، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا " ہاں ابوبکر ! مجھے امید ہے کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو" (بخاری)
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک روز ارشاد فرمایا ا " ہم نے ہر شخص کے احسان کا بدلہ چکادیا مگر ابوبکر کے احسانات ایسے ہیں کہ ان کا بدلہ اللہ جل شانہ ہی عطا فرمائے گا".
آپ کو یہ اعزاز بھی تنہا حاصل ہے کہ آپ کی مسلسل چار نسلوں کو شرف صحابیت حاصل ہوا.آپ کے والد گرامی حضرت ابی قحافہ آپ خود ، آپ کے صاحبزادے عبدالرحمن اور پوتے ابو عتیق محمد بھی شرف صحابیت سے مشرف ہوئے.رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ساری زندگی آپ پر کسی دوسرے کو فضیلت نہیں دی.
ابو بکر کے مال نے مجھے جتنا نفع پہنچایا اتنا نفع مجھے کسی کے مال سے نہیں پہنچا . اس پر حضرت ابوبکر صدیق نے روتے ہوئے عرض کیا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم! میں اور میرا مال سب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کا ہے.
میں اگر اللہ کے سوا کسی کو اپنا دوست و خلیل بناتا تو ابوبکر کو بناتا.
ایک موقعہ پر سرکار صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج سے مسجد نبوی میں کھلنے والی تمام کھڑکیاں اور دروازے بند کردیئے جائیں آئندہ صرف ابوبکر کا دروازہ کھلا رکھا جائے گا.
آپ امت پر اتنے شفیق تھے کہ ایک روز سرکار دوعالمصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا "میری امت پر ان میں سب سے مہربان ابوبکر ہیں."(ترمذی)
تم (ابوبکرصدیق) غار میں بھی میرے ساتھ رہے اور بروز قیامت حوض کوثر پر بھی میرے ہمراہ ہوگے. (ترمذی)
انبیا کرام کے سوائے سورج کبھی ابوبکر سے بہتر آدمی پر طلوع نہیں ہوا.
کسی قوم کے لئے بہتر نہیں کہ ان میں ابوبکر ہوں اور ان کی امامت کوئی دوسرا کرے.
اے ابوبکر ! تم کو اللہ جل شانہ نے آتش جہنم سے آزاد کردیا ہے۔ اسی روز سے آپ کا لقب عتیق مشہور ہوگیا.
ایک روز آپصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا " یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! کیا کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کو بروز قیامت جنت کے تمام دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ " ، سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا " ہاں ابوبکر ! مجھے امید ہے کہ تم انہی لوگوں میں سے ہو" (بخاری)
سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک روز ارشاد فرمایا ا " ہم نے ہر شخص کے احسان کا بدلہ چکادیا مگر ابوبکر کے احسانات ایسے ہیں کہ ان کا بدلہ اللہ جل شانہ ہی عطا فرمائے گا".
آپ کو یہ اعزاز بھی تنہا حاصل ہے کہ آپ کی مسلسل چار نسلوں کو شرف صحابیت حاصل ہوا.آپ کے والد گرامی حضرت ابی قحافہ آپ خود ، آپ کے صاحبزادے عبدالرحمن اور پوتے ابو عتیق محمد بھی شرف صحابیت سے مشرف ہوئے.رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ساری زندگی آپ پر کسی دوسرے کو فضیلت نہیں دی.

No comments:
Post a Comment